black love-3

ناول black love

قسط تین

از قلم نویدہ شاہد

وہ ڈرتے ڈرتے نیچے آئی تھی ہر پل لگ رہاتھا کہ ابھی وہ سردمہر انسان کہیں سے نکل کر آجائے گااور ایسا ہوبھی گیا تھا وہ دائیں جانب بنی سیڑھیاں اترتا نیچے آرہا تھا ساتھ میں وہی شاندار عورت تھی وہ دونوں ساتھ میں کتنے اچھے لگ رہے تھے اپنی سوچ کوجھٹک کراسنے فورا سر جھکا لیا وہ اسکے پاس سے ہوکر آگے بڑھ گیا تھا بغیر اسے دیکھے سخت تاثرات اور جامد چپ لیے ۔۔۔

“میرا بیٹا اتنا بھی برا نہیں ہے ” وہ اسکا ڈر بھانپ کر ہنستے ہوئے کہہ رہی تھیں اوراسے جھٹکا لگا تھا
وہ کنگ کی مدر تھیں جسے وہ کچھ اور سمجھ رہی تھی اس نے کن آنکھیوں سے انکے سراپے پر نگاہ ڈالی جو اب ڈائننگ ٹیبل کی کرسی کھینچ کر بیٹھ رہی تھیں

اسکا قصور نہیں تھا کوئی بھی یہ دھوکہ کھا کھاسکتا تھا وہ کہیں سے بھی اک جوان مرد کی ماں نہیں لگتی تھیں

“آؤ بیٹھو” انہوں نے پکارا اس وقت ان دونوں کے علاوہ دو ملازمائیں بھی موجود تھیں جو انکے دائیں بائیں کھڑی تھیں

وہ بھی جھجھکتے ہوئے آبیٹھی تھی

“تم مجھے آریانہ بلا سکتی ہو”

” جی ” اس نے سرہلا دیا

“اچھی طرح پیٹ بھر کر کھاؤ اگر کچھ اور پسند ہو تو وہ بتا دو بلکل ریلیکس ہوجاؤ” وہ پھر سےمسکرا رہی تھیں وہی جادوئی مسکراہٹ ۔۔۔۔ وہ اک دم ہلکی پھلکی ہوگئی واقع انکی مسکراہٹ میں جادو تھا ۔۔۔ کیا یہ واقعی جادو تھا ؟؟ یا کچھ اور ؟؟

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

اسکے باپ نے جو ظلم اس کے ساتھ کیا تھا وہ یقین کرہی نہیں پا رہی تھی بیٹے کو بچانے کے لیے انہوں نے اسے قربان کر دیا ۔۔۔ کیسی بے حسی تھی ۔۔۔ وہ ان انجان لوگوں میں آگئی تھی اسکی ماں کو پتا چلا ہوگا تو ان پر کیا گزری ہوگی ۔۔۔ ماں کی یاد نے اسے رلا دیا تھا تبھی دروازہ کھلا اور آریانہ اندر داخل ہوئیں

“ارے پیاری لڑکی تم کیوں رو رہی ہو” وہ اسے روتا دیکھ کر حیران ہوئی تھیں
“مجھ ـــ مجھے گھر جانا ہے ” وہ سسک رہی تھی
“تمہارا نام کیا ہے ”

“تاشفہ ”

“بے فکر ہو جاؤ تاشفہ بے بی تم یہا ں محفوظ ہو میرے بیٹے نے تمہاری ذمہ داری مجھے سونپی ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ وہ کسی کی ذمہداری سونپ رہا ہے تو میں اسکی جان سے بڑھ کرحفاظت کروں گی ”

وہ حیرت میں مبتلا ہوگئی تھی یہ بات وہ بول نہیں رہی تھیں لیکن وہ پھر بھی سن ریی تھی
یہ سب اسکے دماغ میں کہا جارہاتھا وہ پلکیں جھپکائے بنا انہیں دیکھے گئی

“جاؤ مرینہ بے بی کو گھر دکھاؤ ”

انہوں نے کہا تو وہ اٹھ کر چل دی خودبخود ۔۔۔ اسکے قدم اٹھنے لگے تھے کتنی عجیب بات تھی

وہ گھر کی پچھلی طرف آگئے تھے مرینہ لب بھینچے ساکت چل رہی تھی اسکے بلانے پر بھی خاموش رہی وہ حیران ہوگئی وہ اسے عجیب لگی تھی ۔۔۔ بہت عجیب

اس سے بھی زیادہ یہ جگہ عجیب تھی اونچے اونچے کھنڈرات بے حد ویرانی اسے اک دم گلے میں کانٹے اگنے لگے پیاس شدید ہوگئی

“مجھے پانی پینا ہے” اس نے کہا تو مرینہ واپس مڑ گئی

وہ اردگرد دیکھتی آگے بڑھ آئی آگے رات تھی بے حد اندھیرا ایک ہی جگہ پر دو طرح کا سماں جہاں وہ کھڑی تھی وہاں دن تھا اور چند قدم پر آسمان سیاہ ۔۔۔ وہاں سے کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا یہ کیسے ممکن تھا وہ تجسس کے ہاتھوں مجبور آگے چل پڑی اس سے پہلے کہ وہ اس تک پہنچتی کسی طاقت نے اسے پیچھے دھکیلا تھا وہ گرتے گرتے بچی

کالی اندھیر سے خوفناک آوازیں آنے لگی تھیں آوازیں قریب آرہی تھیں وہ پیچھے ہٹنے لگی اسے محسوس ہوا وہ یہاں آکر غلطی کر چکی ہے اور پھر اک دم سب رک کیاسب خاموش ہوگیا صرف ایک آواز گونجی تھی

“واپس جاؤ “بھاری اور تیز آواز وہ یہ آواز پہچانتی تھی یہ کنگ کی آواز تھی وہ اندھا دھند واپس بھاگی معا اسے لگا کوئی اسکے پچھے ہے وہ تیز ہوگئی تبھی اسے کوئی دکھا تھا کوئی بہت بھیانک بے حد بھیانک ۔۔۔

وہ کنگ تھا

⚫⚫⚫⚫⚫

وہ تھکا ہارا اک پتھر پر بیٹھا تھا اس سے کچھ دور اسکا عزیز دوست بیٹھا تھا اسکا دھیان پھر سے بھٹک کر اس نازک دوشیزہ پر چلا گیا یہ پہلا موقع تھا کہ دل یوں بے ایمان ہوا تھا کل بھی وہ اسکے بے خبر سوتے وجود کو شعور کی آنکھ سے گھنٹوں دیکھتا رہا تھا اسکے دل میں اسے دیکھنے کی تمنا جاگی وہ آنکھیں بند کیے اسے ڈھونڈنے لگا اور پھر اسے جھٹکا لگا وہ اندھیر نگری میں جارہی تھی اسنے قوت یکجا کرکے اسے جھٹکا دینا چاہا دوسری جانب خبر ہوگئی تھی آوازیں تیز ہوئی تھیں

“واپس جاؤ” وہ اسکے دماغ میں چیخا تھا وہ بے وقوف اسکی آواز سن کر اسے ڈھونڈنے گی تھی

“میں نے کہا جاؤ “وہ پھر سے چیخا وہ الٹے قدموں دوڑی تب تک دیر ہوچکی تھی اندھیر نگری کے باسی اسکے پیچے دوڑے تھے وہ یکلخت تخیل سے نکل کر انکے درمیاں حائل ہوا یہ صرف اسکی شبیہ تھی جسے دیکھتے وہ لوگ پل بھر میں پیچھے ہٹنے لگے لیکن اس سے قبل ہی وہ محترمہ بے ہوش ہو چکی تھیں

جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *