Black love -10

ناول بلیک لو

قسط دس

از قلم نویدہ شاہد

وہ پلک جھپکتے اس تک آیا اور اسے اپنی گرفت میں جکڑے آگے بڑھ گیا

“کیا گارنٹی ہے کہ آپ اسے نقصان نہیں پہنچائیں گے” نائیسہ کو اس معصوم لڑکی پر ترس آیا تھا
تبھی مداخلت کر گئی

” ہم کسی کو جواب دہ نہہں جو اس نے کیا ہے اسکی سزا ضرور ملے گی” کنگ نے مڑ کر نہیں دیکھا اگلے لمحے وہ اسے لے کر غائب ہوچکا تھا

نائیسہ کو وہ لڑکی معصوم لگی تھی کتنی لاچار اور بے بس تھی جانے یہ سپر ہیروز اسکے ساتھ کیا کرتے وہ خود سے عہد کرتی اٹھی اور انکا پیچھا کرنے لگی

⚫⚫⚫⚫⚫⚫⚫

وہ اسے لیے شاہی کمرے میں آیا تھا اندر داخل ہوتے ہی اسے جھٹکا دیا وہ زمین پر آگری

“تمہیں لگا تم مجھ سے بھاگ سکتی ہو ؟؟؟ کنگ سے بھاگنا اتنا آسان ہے کیا ؟؟” وہ بمشکل اٹھ کر بیٹھی گرنے سے ہاتھوں میں درد ہورہا تھا تبھی اسکی خوفناک انداز نے اسے ڈرنے پر مجبور کردیا

“میں گھر جانا چاہتی تھی “وہ اونچی آواز میں رونا شروع ہوگئی تھی

“گھر تمہارا کوئی گھر نہیں ہے اب یہاں سے واپسی ناممکن ہے” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر غرایا تو وہ ہمت کرتے کھڑی ہوگئی

“پلیز میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں “وہ روتے ہوئے اسکے سامنے ہاتھ جوڑ چکی تھی

“خاموش بلکل خاموش ذرا بھی آواز نہ آئے” کنگ کی دھاڑ پر وہ اچھل کر دور ہوگئی

اسے کنگ کے اسی رویے سے خوف آتاتھا

اور کنگ کو اسکا رونا منت کرنا کسی صورت گوارا نہ تھا وہ اسکے رونے پر کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا اس نے غلطی کی تھی اگر وہ ااسے سزا نہیں دیتا تو وہ یقیننا دوبارہ سے یہ غلطی دہراتی

“مجھے بتاؤ تمہاری مدد کس نے کی” وہ اصل بات کی طرف آیا اور اس سے اگلوانے لگا

“کسی نے نہیں” وہ نفی میں سر ہلاتی پیچھے ہونے لگی

“سوچ لو ورنہ انجام بہت برا ہوگا ” کنگ نے اسے دھمکایا تھا

“م میں نہیں جانتی ” کنگ سخت نظروں سے اسے گھور رہا تھا

“زمی ” وہ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد بولا

“جی ” زمی فورا حاضر ہوگیا

“اسے قید خانے میں ڈال دو ” کنگ کے حکم پر اسکی آنکھیں پھٹ گئی

“جی سرکار” زمی کے گارڈ اسکے چیخنے چلانے کی پرواہ کیے بغیر اسے لے گئے

“اسے کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے” وہ زمی کے دماغ میں بولتا اسے جانے کا اشارہ کرتا کمرے کی طرف بڑھ گیا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

گارڈ اسے لیےقید خانہ کی طرف جارہے تھے وہ بری طرح بلک رہی تھی تبھی شہزادی سامنے آگئی وہ اسے قہر سے دیکھ رہی تھی اگلے ہی لمحے وہ آگے بڑھی اور اسے تھپڑ رسید کردیا وہ رک گئی حیران نظروں سے دیکھنے لگی

“تمہیں کس نے کہا تھا کہ بھاگنے کو ؟ اگر بھاگ نہیں سکتی تھیں تو واویلا کیوں مچارہی تھیں” وہ اسے بالوں سے پکڑتی قریب کرتی پھنکاری تاشفہ بت بن گئی

“اگرمیرانام آیا توبہت برا حال کروں گی سمجھیں “وہ سرگوشی کرتی جھٹک کر آگے بڑھ گئی تھی

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

نائیسہ انکا پیچھا کرتی ہوئی آئی تھی لیکن محل کے باہر وہ رک گئی اس محل میں داخل ہونا ممکن نہیں تھا وہ یہ خطرہ مول نہیں لے سکتی تھی وہ وہیں رک گئی اسے کنگ کے باہر آنے کا انتظار کرنا تھا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

وہ غصے سے کھول رہا تھا دماغ پھٹ رہا تھا اسے کنگ پر تاؤ آرہا تھا سوچ گنگ تھی وہ تو انسان سے نفرت کرتے تھے پھر اک لڑکی کی خاطر وہ اسے بچانے چلے آئے تھے اسکا شکار چھن گیا تھا وہ کچھ نہیں کرسکا تھا پہلی بار وہ خود کوہارا ہوا محسوس کررہا تھا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

“یہ کھانا کس کے لیے ہے ” ملازم کھانے کی ٹرے لیے جارہا تھا جب شہزادی نے اسے روک کر پوچھا

“جی قید خانہ میں انسان کے لیے ” وہ سر جھکائے بولا

” اتنا اہتمام ایک قیدی کے لیے ” شہزادی کی نظر ٹرے پر تھی جس میں طرح طرح کے کھانے تھے

“یہ کھانا واپس لے جاؤ” شہزادی کا حکم تھا

“لیکن یہ تو کنگ کا حکم ہے ” ملازم بوکھلایا

“کنگ کا حکم مت ٹالو پوچھیں تو کہنا کھلا دیا سمجھے ”

“جی”

“جاؤ اب ” وہ نخوت سے بولتی جانے کا اشارہ کررہی تھی

“اس لڑکی کو بھوکے مرنا چاہیے ” اس نے اپنی مخصوص ملازمہ کو حکم دیا تھا

“جی جیسا آپ کہیں ”

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

“وہ کیسی ہے ” کنگ نے تاشفہ کے متعلق استفسار کیا

“ٹھیک ہیں سو گئی ہیں ” زمی نے اطلاع دی تھی

” خیال رہے کسی کی چیز کی کمی نہ آئے ” کنگ کا حکم اسے حیران کررہا تھا

“جو حکم” وہ مودب سا سر جھکا گیا

“اب جاؤ کسی کو بھی کمرے میں مت بھیجنا ” وہ اسے جانے کا اشارہ کرتا بیڈ پر لیٹ گیا

وہ آنکھیں بند کیے اسےمحسوس کرنے لگا لاشعوری طور پر وہ وہاں پہنچ گیا تھا

وہ سورہی تھی

جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *