سائیکو لوـ2

سائیکو لو

قسط دو

از قلم انیس علی

پورے محل نما گھر کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ زاویار نے خود شادی کی تمام سجاوٹ کا انتظام کیا تھا۔ ہال سفید کلیوں اور گلابی پھولوں سے سجا ہوا تھا یہ پھول روزی کے پسندیدہ تھے۔ روزی کو پھولوں سے بے پناہ محبت تھی اس لیے زاویار نے پوری حویلی کو صرف اپنی محبت کے لیے پھولوں سے سجانے کا خصوصی اہتمام کیا تھا شاندار چمکتا دمکتا فانوس تقریب کا سنگ بنیاد تھا۔ سب کچھ بہت شاندار طریقے سے سجا ہوا تھا اور بہت ہی عمدہ نظر آرہا تھا۔ زاویار خود بھی ایک خوبصورت کالے سوٹ میں ملبوس تھا اور بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ گفتگو کر رہا تھا لیکن اس کی نظریں سیڑھیوں کہ جانب تھیں ایکدم ہال میں سناٹا چھاگیا۔ زاویار کی آنکھیں محبت اور خوشی سے چمکنے لگیں

“روز” ، اس نے سرگوشی کی۔ وہ آہستہ آہستہ سیڑھیوں سے اتر رہی تھی اس کی خوبصورتی دلفریب تھی جس نے اسے سحرزدہ کر دیا۔ وہ اسکی نظروں سے گھبرا کر نیچے دیکھنے لگی زایویار اس کی طرف بڑھا اس کے پاس پہنچ کر اس کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ روزی نے اسے نہیں تھاما سب حیرتچزدہ ہو گئے زاویار نے آگے بڑھ کر آہستہ سے اس کا ہاتھ تھام لیا اس کی گرفت مضبوط تھی۔

اس کے منہ سے کراہ نکل گئی لیکن پھر بھی اس نے اس کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔جس کو محسوس کرتے زاویار نے اسے آہستہ سے اپنی طرف کھینچ لیا۔

“جان من، تم ناقابل یقین حد تک خوبصورت لگ رہی ہو” ، اس نے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اک لٹ کو نرمی سے اس کے کان کے پیچھے کیا۔ روزی اس کے لمس سے لرز اٹھی

زاویار کی نگاہیں نرم گرم سی تھیں

“روز مجھ سے مت ڈرو۔ میں تمہیں کبھی تکلیف نہیں دوں گا۔ مجھ پر یقین رکھوپلیز “، اس نے انگلی کی مدد سے اسکی تھوڑی اوپر اٹھاتے ہوئے میٹھی لہجے میں کہا تو روزلین کی آنکھیں بھرا گئیں لیکن جلد ہی اس کی آنسو بھری نگاہوں میں غصہ بھر گیا

زاویار کے ماتھے پر بل پڑ گئے اس نے اس کی ٹھوڑی پر گرفت مضبوط کردی اور سخت آواز میں بولا۔

” یہاں کسی بھی قسم کا ہنگامہ کرنے کی جرت نہ کرنا ، سویٹی” ، اس نے یوں آگے جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کی کہ دیکھنے والے کو لگے وہ محبت بھری باتیں کررہے ہیں ، “ورنہ اپنے والدین کے خون سے لتھڑے وجود دیکھنے کے لیے تیار رہو”۔ یہ سن کر روزی کی آنکھیں فورا ساکت ہو گئیں۔ اس نے خوف سے اسے دیکھا۔ “پلیز … ڈونٹ ڈو اٹ” ، وہ رودینے ک تھی لیکن زاویار کے خوف سے یہ بھی نہیں کرسکتی تھی

زاویار نے فورا اپنی شہادت کی انگلی اس کے گداز ہونٹوں پر رکھ کر دی ” نہیں میری جان ، یہ مکمل طور پر تم پر منحصر ہے۔ اگر تم میرے ساتھ خوش نظر آو گی تو تمہیں اپنے والدین کے چہرے بھی خوش نظر آئیں گے لیکن اگر تم نے میرے ساتھ کھیلنے کی ہمت کی تو تم اپنے والدین کے مردہ چہرے دیکھنے کے لیے تیار ہوجانا”۔ زاویر نے جھک کر آہستہ سے اسکے آنسو پونچھے۔

روزی خاموشی سے اسے گھورتی رہی۔ اس کے والد ان کی طرف آرہے تھے۔ زاویار اس کی طرف دیکھ کر محبت سے مسکرایا۔ روزی بھی اپنے بابا کی طرف دیکھ کر مسکرائی تھی ۔ اس کے والد نے مسکراتے ہوئے اس کے سر کو ہلکا سا تھپکا۔

روزلین نے ان کا ہاتھ تھام لیا اور ان کے ساتھ آگے بڑھ گئی وہ دل ہی دل میں ماتم کناں تھی

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

مجھے نہیں معلوم تھا کہ اب کیا کرنا ہے۔ میں کچھ نہیں کہہ سکتی اور نہ ہی کر سکتی ہوں۔ نہ ہی یہ سب قبول کر سکتی ہوں لیکن بھاگ بھی نہیں سکتی میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میری زندگی کا پیار ، جو میرا سب کچھ تھا وہ میرے ساتھ ایسا کرے گا۔میں نے اپنی آنکھیں جھکا رکھی تھین کیونکہ میں اس خوفناک انسان نما حیوان کو مزید نہیں دیکھنا چاہتی تھی میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ اس نے میرے سب سے اچھے دوست کو بے رحمی سے مار ڈالا اور یہاں تک کہ اپنے پاگل پن کی وجہ سے مجھے بلیک میل کررہا تھا وہ ایک مکمل نفسیاتی مریض ہے۔ میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ جس زاویار کو میں جانتی ہوں وہ اتنا بے رحم ہے !! میں اندر ہی اندر مر رہی تھی

میرا دل کررہا تھا کہ اپنے والد سے چیخ چیخ کر کہوں کہ مجھے اس درندے سے بچالے لیکن زاویار کی دھمکی نے مجھے خوفزدہ کر دیا تھا۔مجھےلگا میں کبھی اس قید سے نہیں نکل سکوں گی ۔۔۔ کب مجھے سٹیج پر بٹھایا گیا کب نکاح ہوا مجھے کچھ خبر نہیں ہوئی میں بس بت بنے بیٹھی تھی سکتہ تو تب ٹوٹا جب وہ میعے کان کے قریب جھک کرکہہ رہا تھا

“اب تم میری ہو صرف میری روز ہو ” وہ کتنا خوش تھا فتح مند تھا اس کے بعد میں نے شادی کا کیک کاٹا ایک دوسرے کو کھلایا بھی اور یہ سب میں نے جس دل سے کیا صرف میں جانتی تھی ۔ اچانک ایک گارڈ آیا اور زاویار کے کان میں کچھ سرگوشی کی۔ اس نے اسے گھورا اور تیزی اٹھ کر چلا گیا۔میں نے گہری سانس لی یوں جیسے مجھے آزادی مل گئی ہو میں نے فورا امی کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا اور انہیں لے کر اک کونے میں چلی آئی “کیا ہوا ہے-” ، امی حیرت زدہ تھیں “ماں ، یہ سب ٹھیک نہیں ہے ، پلیز میری مدد کریں” ، میں نے جلدی سے اپنے آنسو روکتے ہوئے کہا۔ انہوں نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔ “کیوں؟ ایسا کیا ہوا ہے تم تو بہت خوش تھیں بیٹا “، انہوں نے میرے کندھوں کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے پوچھا۔ میں نے ان کی طرف دیکھا اور انہیں سچ بتانے کی کوشش کی۔ “امی ، زاویار ایک ۔۔۔۔۔۔ ”

“کیا باتیں ہورہی ہیں چھپ کر ؟” اچانک اسکی گہری آواز نے مجھے چونکا دیا۔ “یا اللہ نہیں !!!” میرا جی چاہا یہ جھوٹ ہوجائے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *