بدلہ -2

ناول بدلہ

از قلم انیس علی

قسط دو

مائی لارڈ ! ” شاہی گارڈ اس عظیم الشان دسترخوان کی طرف چیختا ہوا بھاگا تھا جہاں بادشاہ اپنے کنبہ کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھا تھا۔ سب خوش گپیوں میں مصروف تھے ایسےمیں شاہی گارڈ کا یوں بھاگنا عجیب تھا یقیننا معاملہ سنگین تھا

“ڈریگن! ڈریگن!” وہ خوفزدہ ہوکر چیخ رہا تھا

“ڈریگن کو کیا ہوا؟” کنگ لوریل کی توجہ بٹی اور اس نے ابرو اچکا کر اپنے گراؤنڈ کیپر سے پوچھا۔

“ڈریگن!” شاہی گارڈ چیختے ہوئے میز کے قریب ہی گر پڑا۔

“یہ کیا ہے؟ وہ نہیں آیا؟ ” بادشاہ نے پوچھا مایوسی اس کے چہرے پر صاف دکھائی دے رہی ہے۔ لارڈ پین ( وزیر) نے شاہی گارڈ کا گریبان پکڑ کر اسے اٹھایا اور پوچھا بات سنتے ہی اسکا چہرہ بھی زرد پڑ گیا وہ تیزی سے بادشاہ کی طرف مڑا

“وہ لڑکی کو نہیں لے کر گیا!” لارڈ پین نے زرد چہرے کے ساتھ کہا

“کیا!؟” اس بار بھی بادشاہ چیخ اٹھا اور کھڑا ہوگیا۔ چاروں طرف اچانک خاموشی چھا گئی
سبھی کی نظریں بادشاہ پر جمی تھیں

“وہ لڑکی نہیں لے کر گیا!” لارڈ پین نے دہرایا۔ ” اب ہمارے لیے کیا حکم ہے ؟” کونسل کے ممبران جمع ہوچکے تھے

” جلد از جلد ایک اور لڑکی تلاش کریں جلد !کیا وہ خوبصورت نہیں تھی؟ ” بادشاہ نے سختی سے حکم دیا

“کوئی بھی خوبیوں کی حامل لڑکی فی الوقت موجودنہیں ہے تلاش کرنے میں وقت لگے گا”
لارڈ پین نے مایوسی سے جواب دیا سب کے دل ڈر رہے تھے کہ ڈریگن اب کیا کرے گا

“ضرور ہے!” ایک کونسلر بولا۔ “شہزادی اہل ہے۔”

“نہیں! نہیں نہیں نہیں!” ملکہ لیریہ تیزی سے کھڑی ہوئی اور اس کی آنکھیں سے شعلے لپکنے لگے

“تم میری بیٹی کو نہیں لے جاسکتے! وہ بمشکل 18 سال کی ہے! ”

“میری ملکہ ، مجھے معاف کردیں۔” کونسلر اس کی سمت تعظیما جھکے۔ “ہم جن لڑکیوں کی قربانی دیتے ہیں ان کی عمر بھی بمشکل 18 ہوتی ہے۔”

کیتھرین (شہزادی) کے لئے یہ معامل دلچسپ ہوسکتا تھا،اگر وہ خود مرکزی موضوع نہ ہوتی۔

اس کا جی بری طرح گھبرانے لگا باپ اور ماں اپنی اکلوتی بیٹی کو کبھی قربان نہیں کریں گے۔ اس نے دل ہی دل میں خود کو تسلی دی

“آپ کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔ ڈریگن کیپیٹل کے اوپر چکر لگا رہا ہے۔ وہ کسی بھی لمحے حملہ کر سکتا ہے۔ “لارڈ پین نے اپنے تحفظات پر آواز اٹھائی۔ “نہیں! کیترین نہیں۔ بادشاہ نے پریشانی سے سر ہلایا

“مائی لارڈ ، شہر میں فسادات ہو رہے ہیں۔ لوگ خوفزدہ ہیں۔ شاہی محافظوں میں سے ایک باہر سے خبر لے کر پہنچاہے ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔ ہم انتظار نہیں کر سکتے کہ اسے پہل کرنے کا موقع دیں ” کونسلر جھک کر بولا

“۔ ہم ڈریگن سے نہیں لڑ سکتے ہمارا سارا جادو یہاں بیکار ہے۔

“ہمیں یہ کرنا ہوگا ، آپ کی عظمت۔” لارڈ پین پھر بولا

کیتھرین اپنی کرسی پر بیٹھی دل ہی دل میں خوفزدہ ہوئے جارہی تھی اسکی خواہش تھی کہ وہ اس لمحے جادو ، حقیقی جادو کر سکے ، جس سےوہ صرف غائب ہوکر چھپ جاتی کہ وہ جانور بھی اسے نہ ڈھونڈ سکے تو وہ اس کو قربان نہیں کرسکیں گے لیکن وہ کچھ بھی کرنے میں دیر کر چکی ہے اور جب اس نے اپنے والد کی شکست خوردہ کی آواز سنی تو اس کا خون اس کی رگوں میں جم گیا۔

“شہزادی کو تیار کرو۔ ہم جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔”

اس کی والدہ کے چہرے پر تکلیف زدہ آتثار نظر آنے لگے لیکن ملکہ بادشاہ کی مخالفت نہیں کرسکتی تھی تبھی خاموشی سے پیچھے ہٹ گئی اور اس فیصلے سے کیتھی کے چہرہ آنسوؤں سے بھر گیا اسکا دل رورہا تھا جب وہ اسے قربانی کے ستون کی طرف لے جارہے تھے یہاں تک کہ وہ آسمان میں ڈریگن کا سایہ بھی دیکھ سکتی ہے۔

وہ بری طرح گھبرا گئی جانے آگے کیا ہوا گا وہ اس کہ ساتھ کیا کرے گا اور سب سے بڑھ کر وہ اپنے باپ اور ماں کو الوداع تک نہیں کہہ سکتی تھی

لارڈ پین نے اسے ستون سے باندھا اور پیچھے ہٹ گیا۔

جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *